نئی دہلی، 17جولائی(ایس اونیو/آئی این ایس انڈیا)سوشل میڈیا کے دور میں بہت سے لوگوں کے مذہب اور ذات کی بنیاد پر رائے بنانے اور چھینٹا کشی کرنے کے پس منظر میں ملک کے کچھ اہم دانشوارن نے اپیل کی ہے کہ لوگوں کو عقیدہ اور ذات سے پہلے ہندوستانیت کی بنیادپر اہمیت دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اسی سوچ سے ملک کو ترقی یافتہ اور خوشحال بنایا جا سکتا ہے۔گذشتہ شام انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ’’آل انڈیا کانفرنس آف انٹلکچول ‘‘نامی ادارے کی جانب سے ’’یوپی رتن‘‘ایوارڈ پیش کئے جانے کی تقریب میں سابق الیکشن کمشنر جی وی جی کرشن مورتی اور سابق مرکزی وزیر بھیشم نارائن سنگھ سمیت کئی شخصیات نے خیالات کا اظہار کیا۔کرشن مورتی نے کہاکہ کسی بھی ملک میں دانشوروں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے،دانشور کمیونٹی ملک اور معاشرے کو صحیح راستہ دکھانے کا کام کرتی ہے، ہر دور میں دانشوروں کا کردار اہم ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ملک میں جو بھی شخص رہتا ہے کہ وہ پہلے ہندوستانی ہے، اس کے بعد وہ ہندو، مسلمان، سکھ یا عیسائی ہے،ہمیں تمام لوگوں کی ہندوستانیت کو اہمیت دینا چاہئے،اسی سوچ سے ملک میں ترقی اور خوشحالی آئے گی۔سابق مرکزی وزیر بھیشم نارائن سنگھ نے کہا کہ ہمارے ملک میں سب سے اہم کتاب ہمارا آئین ہے جو تمام لوگوں کو جوڑتا ہے،ہمارے ملک کے تمام لوگ آئین اور ملک کے پرچم پر یقین رکھتے ہیں،مجھے پورا یقین ہے کہ آئین اور جمہوریت میں ہمارایقین آگے اورزیادہ ہوتا جائے گا۔فلم ساز شعیب حسین چودھری نے کہا کہ سوشل میڈیا کے دور میں کئی بار ایسا نظر آتا ہے کہ لوگ مذہب اور ذات کی بنیاد پر تقسیم ہو رہے ہیں،ایسے میں دانشوروں کا کردار اہم ہو جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو صحیح رہنمائی کریں،ہندوستانیت ہم سب لوگوں کی شناخت ہے اور ہمیں اس پر فخر کرنا چاہئے۔اس موقع پر شعیب حسین چودھری، جانیمانے شاعر پاپولر میرٹھی اور کچھ دوسرے لوگوں کو ’’یوپی رتن‘‘ایوارڈ پیش کیا گیا۔